میر تقی میر
غم مرگ سے دل جگر ریش ہے
غم مرگ سے دل جگر ریش ہے
عجب مرحلہ ہم کو درپیش ہے
بلا ہے اسے شوق تیر و کماں
یہیں سے ہے پیدا ستم کیش ہے
دلا اس کے ظاہر پہ مت جائیو
وہ خوش رو تو ہے پر بد اندیش ہے
بہت خوب ہے لعل نوشین یار
ولیکن خط پشت لب نیش ہے
ہمیں کیا جو ہے میر بیہوش سا
خدا جانے یہ کیا ہی درویش ہے