میر تقی میر میر تقی میر

دو دیدئہ تر اپنے جو یار کو ہیں تکتے

دو دیدئہ تر اپنے جو یار کو ہیں تکتے اک ایک کو نہیں پھر غیرت سے دیکھ سکتے حرکت دلوں کی اپنے مذبوحی سی رہے ہے اب وہ نہیں کہ دھڑ دھڑ رہتے ہیں دل دھڑکتے پلکوں کی اس کی جنبش جاتی نہیں نظر سے کانٹے سے اپنے دل میں رہتے ہیں کچھ کھٹکتے ہوتا تھا گاہ گاہے محسوس درد آگے اب دل جگر ہمارے پھوڑے سے ہیں لپکتے پڑتی ہیں ایدھر اودھر وے سرخ آنکھیں ایسی دو ترک مست جیسے ہوں راہ میں بہکتے شعلوں کے ڈانک گویا لعلوں تلے دھرے ہیں چہروں کے رنگ ہم نے دیکھے ہیں کیا جھمکتے یاں بات راہ کی تو سنتا نہیں ہے کوئی جاتے ہیں ہم جرس سے اس قافلے میں بکتے جاگہ سے لے گئے ہیں نازاں جب آگئے ہیں نوباوگان خوبی جوں شاخ گل لچکتے اس حسن سے کہاں ہے غلطانی موتیوں کی جس خوبصورتی سے میر اشک ہیں ڈھلکتے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR