میر تقی میر میر تقی میر

کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی

کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی تعارف کیا رہا اہل چمن سے ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی سو کی اس رفتنی نے بے وفائی کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے قیامت شامت اعمال لائی گیا اس ترک کی آمد کو سن جی تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں مثل ہو میری تیری آشنائی بغیر از چہرئہ مہتابی یار ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو ہوئی صدچند اس کی خودنمائی فراق یار کو آساں نہ سمجھو کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR