میر تقی میر میر تقی میر

سب شرم جبین یار سے پانی ہے

سب شرم جبین یار سے پانی ہے ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے سمجھے نہ کہ بازیچۂ اطفال ہوئے لڑکوں سے ملاقات ہی نادانی ہے جوں آئینہ سامنے کھڑا ہوں یعنی خوبی سے ترے چہرے کی حیرانی ہے خط لکھتے جو خوں فشاں تھے ہم ان نے کہا کاغذ جو لکھے ہے اب سو افشانی ہے دوزخ میں ہوں جلتی جو رہے ہے چھاتی دل سوختگی عذاب روحانی ہے منت کی بہت تو ان نے دو حرف کہے سو برسوں میں اک بات مری مانی ہے کل سیل سا جوشاں جو ادھر آیا میر سب بولے کہ یہ فقیر سیلانی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR