میر تقی میر میر تقی میر

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے کیا دھیر بندھے اس کی جو عشق کا رسوا ہو نکلے تو کہیں لڑکے دھیری ہے بے دھیری ہے خوں عشق کی گرمی سے سوکھا جگر و دل میں اک بوند تھی لوہو کی اب چھاتی جو چیری ہے ہم طائر نوپر ہیں وے جن کو بہاراں میں گل گشت گلستاں کا ہے شوق و اسیری ہے اس دلبر بدظن سے خوش گذرے ہے عاشق کی نے رحم ہے خاطر میں نے عذر پذیری ہے ہم مرثیہ دل ہی کا اکثر کہا کرتے ہیں اب کریے تخلص تو شائستہ ضمیریؔ ہے کیا اہل دول سے ہے اے میر مجھے نسبت یاں عجز و فقیری ہے واں ناز امیری ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR