میر تقی میر میر تقی میر

سوزدروں سے آگ لگی ہے سارے بدن میں تب سی ہے

سوزدروں سے آگ لگی ہے سارے بدن میں تب سی ہے طاقت دل کی تمام ہوئی ہے جی کی چال کڈھب سی ہے سینے کے زخم نمایاں رہتے چاک کیے سو پردئہ در مدت سے یہ رخنے پڑے تھے چھاتی پھٹی میں اب سی ہے پرسش حال کبھو کرتے ہیں ناز و چشم اشارت سے ان کی عنایت حال پہ میرے کیا پوچھو ہو غضب سی ہے گود میں میری رکھ دیتا ہے پائوں حنائی دبنے کو یوں پامال جو میں ہوتا ہوں مجھ کو بھی تو دب سی ہے لطف کہاں وہ بات کیے پر پھول سے جھڑنے لگ جاویں سرخ کلی بھی گل کی اگرچہ یار کے لعل لب سی ہے خانہ خراب ہو خواہش دل کا آہ نہایت اس کو نہیں جان لبوں پر آئی ہے پر تو بھی گرم طلب سی ہے تم کہتے ہو بوسہ طلب تھے شاید شوخی کرتے ہوں میر تو چپ تصویر سے تھے یہ بات انھوں سے عجب سی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR