میر تقی میر میر تقی میر

شور کیا جو اس کی گلی میں رات کو ہیں سب جان گئے

شور کیا جو اس کی گلی میں رات کو ہیں سب جان گئے آہ و فغاں کے طور سے میرے لوگ مجھے پہچان گئے عہد میں اس کی یاری کے خوں دل میں ہوئے ہیں کیا کیا چائو خاک میں آخر ساتھ ہی میرے سب میرے ارمان گئے موت جو آئے سر پر انساں دست و پا گم کرتا ہے دیکھتے ہی شمشیر بکف کچھ آج اسے اوسان گئے مہلت عمر دوروزہ کتنی کریے فضولی کاہے پر آئے جو ہیں دنیا میں ہم تو جیسے کہیں مہمان گئے ہاتھ لگا وہ گوہر مقصد جیسا ہے معلوم ہمیں محو طلب ہو اہل طلب سب خاک بھی یاں کی چھان گئے کہیے سلوک انھوں کے کیا کیا چھیڑ تجاہل کی ہے نئی نکلے تھے اس رستے سو وے جان کے بھی انجان گئے میر نظر کی دل کی طرف کی عرش کی جانب فکر بہت تھی جو طلب مطلوب کی ہم کو کیدھر کیدھر دھیان گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR