میر تقی میر میر تقی میر

تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی

تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی خواہش ہو جسے دل کی دل دوں اسے اور سر بھی میں نے تو اسی دل سے تصدیع بہت پائی بے پردہ نہ ہونا تھا اسرار محبت کو عاشق کشی ہے جب سے ہے عشق کی رسوائی گھر دل کا بہت چھوٹا پر جاے تعجب ہے عالم کو تمام اس میں کس طرح ہے گنجائی گھر بار لٹایا جب تب وہ سہی قد آیا مفلوک ہوئے اب ہم کر خرچ یہ بالائی خوبی سے ندان اس کی سب صورتیں یاں بگڑیں وہ زلف بنی دیکھی سب بن گئے سودائی کیا عہدہ برآئی ہو اس گل کی دورنگی سے ہر لحظہ ہے خودرائی ہر آن ہے رعنائی عاشق کی جسے ہووے کچھ قدر نہیں پیدا جیتا نہ رہا اب تک مجنوں ہی کو موت آئی آزار بہت کھینچے اب میر توکل ہے کھینچی نہ گئی ہم سے ہر ایک کی مرزائی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR