میر تقی میر
آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ
آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
واقف ہو شان بندگی سے قیدقبلہ کیا
سر ہر کہیں جھکا کہ ہے مسجود ہر جگہ
مو تن پہ ہم نہ سوختہ جانوں کے ہیں نمود
ہے سوزش دروں سے بروں دود ہر جگہ
دلی کے لکھنؤ کے خوش اندام خوب لیک
راہ وفا و مہر ہے مسدود ہر جگہ
پھرتی ہے اپنے ساتھ لگی متصل فنا
آب رواں سے ہم ہوئے نابود ہر جگہ
شہرہ رکھے ہے تیری خریت جہاں میں شیخ
مجلس ہو یا کہ دشت اچھل کود ہر جگہ
سوداے عاشقی میں تو جی کا زیان ہے
پھرتے ہیں میر ڈھونڈتے ہی سود ہر جگہ