میر تقی میر میر تقی میر

ہے تمناے وصال اس کی مری جان کے ساتھ

ہے تمناے وصال اس کی مری جان کے ساتھ جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ کیا فقط توڑ کے چھاتی ہی گیا تیر اس کا لے گیا صاف مرے دل کو بھی پیکان کے ساتھ دین و دل ہی کے رہا میرے وہ کافر درپے خصمی قاطبہ اس کو ہے مسلمان کے ساتھ بحر پر نہر پہ برسے ہے برابر ہی ابر پیش ہر اک سے کریم آتے ہیں احسان کے ساتھ سطرزلف آئی ہے اس روے مخطط پہ نظر یہ عبارت نئی لاحق ہوئی قرآن کے ساتھ تیر اس کا جو گذر دل سے چلا جی بھی چلا رسم تعظیم سے ہو لیتے ہیں مہمان کے ساتھ میں تو لڑکا نہیں جو بالے بتائو مجھ کو یہ فریبندگی کریے کسو نادان کے ساتھ خون مسلم کو تو واجب یہ بتاں جانے ہیں ہوجے کافر کہ اماں یاں نہیں ایمان کے ساتھ آدمیت سے تمھیں میر ہو کیونکر بہرہ تم نے صحبت نہیں رکھی کسو انسان کے ساتھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR