میر تقی میر میر تقی میر

کہتے تو ہیں کہ ہم کو اس کی طلب نہیں کچھ

کہتے تو ہیں کہ ہم کو اس کی طلب نہیں کچھ پر جی اسی کو اپنا ڈھونڈے ہے ڈھب نہیں کچھ اخلاص و ربط اس سے ہوتا تو شور اٹھاتے لب تشنہ اپنے تب ہیں دلبر سے جب نہیں کچھ یاں اعتبار کریے جو کچھ وہی ہے ظاہر یہ کائنات اپنی آنکھوں میں سب نہیں کچھ رکھ منھ کو گل کے منھ پر کیا غنچہ ہو کے سوئے ہے شوخ چشم شبنم اس کو ادب نہیں کچھ دل خوں نہ ہووے کیونکر یکسروراے الفت یا سابقے بہت تھے یا اس سے اب نہیں کچھ یہ حال بے سبب تو ہوتا نہیں ہے لیکن رونے کا لمحہ لمحہ ظاہر سبب نہیں کچھ کر عشق میر اس کا مارے کہیں نہ جاویں جلدی مزاج میں ہے اس سے عجب نہیں کچھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR