میر تقی میر میر تقی میر

رہتا ہے پیش دیدئہ تر آہ کا سبھائو

رہتا ہے پیش دیدئہ تر آہ کا سبھائو جیسے مصاحب ابر کی ہوتی ہے کوئی بائو برسے گی برف عرصۂ محشر میں دشت دشت گر میری سرد آہوں کا واں ہو گیا جمائو حاصل کوئی امید ہوئی ہو تو میں کہوں خوں ہی ہوا کیے ہیں مرے دل میں سارے چائو آنکھوں کے آگے رونے سے میرے محیط ہے ابروں سے جا کہے کوئی پانی پیو تو آئو رہتی تھی اشک خونیں میں ڈوبی سب آستیں اس چشم بحرخوں کے کبھو دیکھے ہیں چڑھائو اظہار درد اگرچہ بہت بے نمک ہے پر ٹک بیٹھو تو دکھاویں تمھیں چھاتیوں کے گھائو آ عاشقوں کی آنکھوں میں ٹک اے بہ دل قریب ان منظروں سے بھی ہے بہت دور تک دکھائو صحبت جو اس سے رہتی ہے کیا نقل کریے ہائے جب آگئے ہیں ہم تو کہا ان نے یاں سے جائو صد چاک اپنے دل سے تو بگڑا ہی کی وہ زلف افسوں کیا ہے شانے نے جو اس سے ہے بنائو اس ہی زمیں میں میر غزل اور ایک کہہ گو خوش نہ آوے سامعوں کو بات کا بڑھائو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR