میر تقی میر میر تقی میر

رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو

رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو اڑایا غم نے ان کے سوکھے پتوں کی روش ہم کو الٰہی سبز رکھیو باغ خوبی کے نہالوں کو جہاں دیکھو کہا کرتے ہیں اس کے عشق کے غم میں نہ ہم دوچار بیٹھے دل شکستے اپنے حالوں کو نہ چشم کم سے مجھ درویش کی آوارگی دیکھو تبرک کرتے ہیں کانٹے مرے پائوں کے چھالوں کو کرے ہے جس پہ بلبل غش سو یہ اس جنس کی قیمت نہیں افسوس آنکھیں بے حقیقت پھول والوں کو دل عاشق کو رو کیا جانوں خوباں کیوں نہیں دیتے بہت آئینے سے تو ربط ہے صاحب جمالوں کو یہی کچھ وہم سی ہے سہل کب آئے قیاسوں میں تفکر اس کمر کا کھا گیا نازک خیالوں کو نہ ایسی طرز دیدن ہے نہ ہرنوں کی یہ چتون ہے کبھو جنگل میں لے چلیے گا ان شہری غزالوں کو کوئی بھی اس طرح سے اپنے جی پر کھیل جاتا ہے مگر بازیچہ سمجھے میر عشق خوردسالوں کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR