میر تقی میر میر تقی میر

سر پہ عاشق کے نہ یہ روز سیہ لایا کرو

سر پہ عاشق کے نہ یہ روز سیہ لایا کرو جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو تاب مہ کی تاب کب ہے نازکی سے یار کو چاندنی میں آفتابی کا مگر سایہ کرو گرچہ شان کفر ارفع ہے ولے اے راہباں ایک دو ہم سوں کو بھی زنار بندھوایا کرو شوق سے دیدار کے بھی آنکھوں میں کھنچ آیا جی اس سمیں میں دیکھنے ہم کو بہت آیا کرو کوہکن کی ہے قدم گاہ آخر اے اہل وفاق طوف کرنے بے ستوں کا بھی کبھی جایا کرو فرق یار و غیر میں بھی اے بتاں کچھ چاہیے اتنی ہٹ دھرمی بھی کیا انصاف فرمایا کرو کب میسر اس کے منھ کا دیکھنا آتا ہے میر پھول گل سے اپنے دل کو تم بھی بہلایا کرو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR