میر تقی میر
آرسی اس کے سامنے دھرلو
آرسی اس کے سامنے دھرلو
کب ہے ویسی مواجہہ کرلو
اس کی تیغ ستم بلند ہوئی
جی ہے مرنے کو تو چلو مرلو
درپئے خوں ہیں میرے خورد و کلاں
یہ وبال اپنے کوئی سر پر لو
کچھ طرح ہو کہ بے طرح ہو حال
عمر کے دن کسو طرح بھرلو
کیا بلاخیز جا ہے کوچۂ عشق
تم بھی یاں میر مول اک گھر لو