میر تقی میر
یہ سرا سونے کی جاگہ نہیں بیدار رہو
یہ سرا سونے کی جاگہ نہیں بیدار رہو
ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو
آپ تو ایسے بنے اب کہ جلے جی سب کا
ہم کو کہتے ہیں کہ تم جی کے تئیں مار رہو
لاگ اگر دل کو نہیں لطف نہیں جینے کا
الجھے سلجھے کسو کاکل کے گرفتار رہو
گرچہ وہ گوہرتر ہاتھ نہیں لگتا لیک
دم میں دم جب تئیں ہے اس کے طلبگار رہو
سارے بازار جہاں کا ہے یہی مول اے میر
جان کو بیچ کے بھی دل کے خریدار رہو