میر تقی میر
قتل کیے پر غصہ کیا ہے لاش مری اٹھوانے دو
قتل کیے پر غصہ کیا ہے لاش مری اٹھوانے دو
جان سے بھی ہم جاتے رہے ہیں تم بھی آئو جانے دو
جان سلامت لے کر جاوے کعبہ میں تو سلام کریں
ایک جراحت ان ہاتھوں کا صید حرم کو کھانے دو
اس کی گلی کی خاک سبھوں کے دامن دل کو کھینچے ہے
ایک اگر جی لے بھی گیا تو آتے ہیں مر جانے دو
کرتے ہو تم نیچی نظریں یہ بھی کوئی مروت ہے
برسوں سے پھرتے ہیں جدا ہم آنکھ سے آنکھ ملانے دو
کیا کیا اپنے لوہو پئیں گے دم میں مریں گے دم میں جئیں گے
دل جو بغل میں رہ نہیں سکتا اس کو کسو سے بکانے دو
اب کے بہت ہے شور بہاراں ہم کو مت زنجیر کرو
دل کی ہوس ٹک ہم بھی نکالیں دھومیں ہم کو مچانے دو
عرصہ کتنا سارے جہاں کا وحشت پر جو آجاویں
پائوں تو ہم پھیلاویں گے پر فرصت ہم کو پانے دو
کیا جاتا ہے اس میں ہمارا چپکے ہم تو بیٹھے ہیں
دل جو سمجھنا تھا سو سمجھا ناصح کو سمجھانے دو
ضعف بہت ہے میر تمھیں کچھ اس کی گلی میں مت جائو
صبر کرو کچھ اور بھی صاحب طاقت جی میں آنے دو
بات بنانا مشکل سا ہے شعر سبھی یاں کہتے ہیں
فکر بلند سے یاروں کو ایک ایسی غزل کہہ لانے دو