میر تقی میر
مدت ہوئی کہ کوئی نہ آیا ادھر سے یاں
مدت ہوئی کہ کوئی نہ آیا ادھر سے یاں
جاتی رہے گی جان اسی رہگذر سے یاں
وہ آپ چل کے آوے تو شاید کہ جی رہے
ہوتی نہیں تسلی دل اب خبر سے یاں
پوچھے کوئی تو سینہ خراشی دکھایئے
سو تو نہیں ہے حرف و حکایت ہنر سے یاں
آگے تو اشک پانی سے آجاتے تھے کبھو
اب آگ ہی نکلنے لگی ہے جگر سے یاں
ٹپکا کریں ہیں پلکوں سے بے فاصلہ سرشک
برسات کی ہوا ہے سدا چشم تر سے یاں
اے بت گرسنہ چشم ہیں مردم نہ ان سے مل
دیکھیں ہیں ہم نے پھوٹتے پتھر نظر سے یاں
راہ و روش کا ہووے ٹھکانہ تو کچھ کہیں
کیا جانے میر آگئے تھے کل کدھر سے یاں