میر تقی میر
میں نالہ کش تھا صبح کو یادحبیب میں
میں نالہ کش تھا صبح کو یادحبیب میں
سوراخ پڑ گئے جگر عندلیب میں
سر مارتے ہیں سنگ سے فرہاد کے سے رنگ
دیکھیں تو ہم بھی کیا ہے ہمارے نصیب میں
جانے کو سوے دوست مسافر ہوئے ہیں ہم
ڈر ہر قدم ہے عشق کی راہ غریب میں
کیا رفتگاں کے ہاتھ سے ہو کتنے ان کے پائوں
اکثر جنھوں کا ہاتھ ہے دست طبیب میں
دل خستہ چشم بستہ و رو زرد تس پہ گرد
حیرت ہے ہم کو میر کے حال عجیب میں