میر تقی میر میر تقی میر

اثر ہوتا ہماری گر دعا میں

اثر ہوتا ہماری گر دعا میں لگ اٹھتی آگ سب جوِّ سما میں نہ اٹکا ہائے ٹک یوسفؑ کا مالک وگرنہ مصر سب ملتا بہا میں قصور اپنے ہی طول عمر کا تھا نہ کی تقصیر ان نے تو جفا میں سخن مشتاق ہیں بندے کے سب لوگ سر و دل کس کو ہے عشق خدا میں کفن کیا عشق میں میں نے ہی پہنا کھنچے لوہو میں بہتیروں کے جامیں پیام اس گل کو اس کے ہاتھ دیتے سبک پائی نہ ہوتی گر صبا میں جیو خوش یا کوئی ناخوش ہمیں کیا ہم اپنے محو ہیں ذوق فنا میں ہمیں فرہاد و مجنوں جس سے چاہو تم آکر پوچھ لو شہر وفا میں سراپا ہی ادا و ناز ہے یار قیامت آتی ہے اس کی ادا میں بلا زلف سیاہ اس کی ہے پرپیچ وطن دل نے کیا ہے کس بلا میں ضعیف و زار تنگی سے ہیں ہرچند ولیکن میر اڑتے ہیں ہوا میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR