میر تقی میر میر تقی میر

کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں

کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں جو کہیے روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے جیسے اسیر تازہ بیتاب ہو قفس میں جانکاہ ایسے نالے لوہے سے تو نہ ہوویں بیتاب دل کسو کا رکھا ہے کیا جرس میں اب لاغری سے دیں ہیں ساری رگیں دکھائی پر عشق بھر رہا ہے ایک ایک میری نس میں اے ابر ہم بھی برسوں روتے پھرا کیے ہیں دریا بندھے پڑے ہیں وادی کے خار و خس میں کیا میر بس کرے ہے اب زاری آہ شب کی دل آگیا ہے اس کا ظالم کسو کے بس میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR