میر تقی میر میر تقی میر

دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں

دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں داغوں سے بھر گیا ہے مرا سینۂ فگار گل پھول زور زور کھلے اس بہار میں کیا اعتبار طائر دل کی تڑپ کا اب مذبوحی سی ہے کچھ حرکت اس شکار میں بوسہ لبوں کا مانگتے ہی تم بگڑ گئے بہتیری باتیں ہوتی ہیں اخلاص پیار میں دل پھر کے ہم سے خانۂ زنجیر کے قریب ٹک پہنچتا ہی ہے شکن زلف یار میں اس بحرحسن پاس نہ خنجر تھا کل نہ تیغ میں جان دی ہے حسرت بوس و کنار میں چلتا ہے ٹک تو دیکھ کے چل پائوں ہر نفس آنکھیں ہی بچھ گئی ہیں ترے رہگذار میں کس کس ادا سے ریختے میں نے کہے ولے سمجھا نہ کوئی میری زبان اس دیار میں تڑپے ہے متصل وہ کہاں ایسے روز و شب ہے فرق میر برق و دل بے قرار میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR