میر تقی میر میر تقی میر

جلا از بس تمھارے طور سے اے جامہ زیباں ہوں

جلا از بس تمھارے طور سے اے جامہ زیباں ہوں بھروسا کیا ہے میرا میں چراغ زیر داماں ہوں سر حرف و سخن کس کو خیال زلف میں اس کے تنک میں جو بکھر جاتا ہوں میں خاطر پریشاں ہوں کہن سالی میں شاہد بازیاں کاہے کو زیبا تھیں دیا لڑکوں کو دل میں نے قیامت میں بھی ناداں ہوں کبھو خورشید و مہ کو دیکھ رہتا ہوں کبھو گل کو مرے انداز سے ظاہر ہے میں اس رو کا حیراں ہوں کسو کی یاد رو میں اشک آنکھوں سے نہیں تھمتے برنگ ابر قبلہ آج میں شدت سے گریاں ہوں بکا جب تک نہیں کرتا ہوں تب تک خیر ہے ورنہ بلا ہوں فتنہ ہوں آشوب ہوں آفت ہوں طوفاں ہوں بحال سگ پھرا کب تک کروں یوں اس کے کوچے میں خجالت کھینچتا ہوں میر آخر میں بھی انساں ہوں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR