میر تقی میر میر تقی میر

چمکنا برق کا کرتا ہے کار تیغ ہجراں میں

چمکنا برق کا کرتا ہے کار تیغ ہجراں میں برسنا مینھ کا داخل ہے اس بن تیر باراں میں بھرے رہتے ہیں سارے پھول ہی جس کے گریباں میں وہ کیا جانے کہ ٹکڑے ہیں جگر کے میرے داماں میں کہیں شام و سحر رویا تھا مجنوں عشق لیلیٰ میں ہنوز آشوب دونوں وقت رہتا ہے بیاباں میں خیال یار میں آگے ہے یک مہ پارہ یاں ہر دم اگر ہجراں میں زندانی ہوں پر ہوں یوسفستاں میں رکھا عرصہ جنوں پر تنگ مشتاقوں کی دوری سے کسے مارا ہے اس گھتیے نے سنمکھ ہوکے میداں میں جہاں سے دیکھیے اک شعر شور انگیز نکلے ہے قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں جو دیکھو تو نہیں یہ حال اپنا حسن سے خالی دمک الماس کی سی ہے ہماری چشم حیراں میں خرابی آگئی دینوں میں ملت گئی اسے دیکھے ملے سے اس کے رخنے پڑ گئے لوگوں کے ایماں میں نکل آتا ہے گھر سے ہر گھڑی ننگے بدن باہر برا یہ آپڑا ہے عیب اس آسائش جاں میں ستم کے تیر اس کے میرے سینے میں بہت ٹوٹے کیا جاتا ہے مشکل فرق اب دل اور پیکاں میں ہواے ابر میں کیا میر ہنستا باغ میں وہ تھا گری پڑتی ہے بجلی آج کچھ صحن گلستاں میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR