میر تقی میر میر تقی میر

کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں

کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں اب ایک سی بیہوشی رہتی نہیں ہے ہم کو کچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہے اب دیدئہ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں ان پائوں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیسا افسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنے ہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کی تب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹک جی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں ہیں نرم صنم گونہ کہنے کے تئیں ورنہ پتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہے جو رہ سکو رہ جائو اب میر بھی چلتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR