میر تقی میر میر تقی میر

کیا کروں سودائی اس کی زلف کی تدبیر میں

کیا کروں سودائی اس کی زلف کی تدبیر میں ظل ممدود چمن میں ہوں مگر زنجیر میں گل تو مجھ حیران کی خاطر بہت کرتا ہے لیک وا نہیں ہوتا برنگ غنچۂ تصویر میں روبرو اس کے گئے خاموش ہوجاتا ہوں کچھ کس سے اپنے چپکے رہنے کی کروں تقریر میں تن بدن میں دل کی گرمی نے لگا رکھی ہے آگ عشق کی تو ہے جوانی ہو گیا گو پیر میں ہو اگر خونریز کا اپنے سبب تو کچھ کہو وہ ستمگر ہے مقرر اور بے تقصیر میں بے دماغی شور شب سے یار کو دونی ہوئی دیکھی بس اس بے سرایت نالے کی تاثیر میں کچھ نہیں پوچھا ہے مجھ سے جز حدیث روے یار ہاتھ بلبل کے لگا ہوں باغ میں جب میر میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR