میر تقی میر میر تقی میر

شعر کچھ میں نے کہے بالوں کی اس کے یاد میں

شعر کچھ میں نے کہے بالوں کی اس کے یاد میں سو غزل پڑھتے پھرے ہیں لوگ فیض آباد میں سرخ آنکھیں خشم سے کیں ان نے مجھ پر صبح کو دیکھی یہ تاثیر شب کی خوں چکاں فریاد میں یہ تصرف عشق کا ہے سب وگرنہ ظرف کیا ایک عالم غم سمایا خاطر ناشاد میں عشق کی دیوانگی لائی ہمیں جنگل کی اور ورنہ ہم پھرتے بگولے سے نہ خاک و باد میں دیر لگتا ہے گلے تلوار پر وہ رکھ کے ہاتھ خوبیاں بھی تو بہت ہیں اس ستم ایجاد میں یہ بنا رہتی سی آتی ہے نظر کچھ یاں مجھے اچھی ہے تعمیر دل کی اس خراب آباد میں میر ہم جبہہ خراشوں سے کسو کا ذکر کیا وے ہنر ہم میں ہیں جو تھے تیشۂ فرہاد میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR