میر تقی میر
کہاں کے لوگ ہیں خوباں محبت ان کو نہیں
کہاں کے لوگ ہیں خوباں محبت ان کو نہیں
مریں بھی ہم تو نہ دیکھیں مروت ان کو نہیں
خراب و خوار ہے سلطاں شکستہ حال امیر
کسو فقیر سے شاید کہ صحبت ان کو نہیں
ہمارے دیدہ و دل سے ہی ہم پہ کام ہے تنگ
کہ رونے کڑھنے سے یک لحظہ فرصت ان کو نہیں
پری و سرو کو دعویٰ ہے اس رخ و قد سے
شکایت اس سے نہیں آدمیت ان کو نہیں
چلا ہے تیغ بکف یار غیر کی جانب
ہوئے ہیں میر تماشائی غیرت ان کو نہیں