میر تقی میر میر تقی میر

رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں

رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے پھول میں اس باغ خوبی سے جو لوں تو لوں کہاں عاشق و معشوق یاں آخر فسانے ہو گئے جاے گریہ ہے جہاں لیلیٰ کہاں مجنوں کہاں آگ برسی تیرہ عالم ہو گیا جادو سے پر اس کی چشم پرفسوں کے سامنے افسوں کہاں سیر کی رنگیں بیاض باغ کی ہم نے بہت سرو کا مصرع کہاں وہ قامت موزوں کہاں کوچہ ہر یک جاے دلکش عالم خاکی میں ہے پر کہیں لگتا نہیں جی ہائے میں دل دوں کہاں ایک دم سے قیس کے جنگل بھرا رہتا تھا کیا اب گئے پر اس کے ویسی رونق ہاموں کہاں ناصح مشفق تو کہتا تھا کہ اس سے مت ملے پر سمجھتا ہے ہمارا یہ دل محزوں کہاں بائو کے گھوڑے پہ تھے اس باغ کے ساکن سوار اب کہاں فرہاد و شیریں خسرو گلگوں کہاں کھا گیا اندوہ مجھ کو دوستان رفتہ کا ڈھونڈتا ہے جی بہت پر اب انھیں پائوں کہاں تھا وہ فتنہ ملنے کی گوں کب کسی درویش کے کیا کہیں ہم میر صاحب سے ہوئے مفتوں کہاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR