میر تقی میر میر تقی میر

کہے تو ہم نشیں رنگ تصرف کچھ دکھائوں میں

کہے تو ہم نشیں رنگ تصرف کچھ دکھائوں میں الگ بیٹھا حنا بندوں کو آنکھوں میں رچائوں میں نہیں ہوں بے ادب اتنا کہ گل سے منھ لگائوں میں جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے گر چمن کی اور جائوں میں کیا ہے اضطراب دل نے کیا مجھ کو سبک آخر کہاں تک یار کے کوچے سے جا جاکر پھر آئوں میں وفا صد کارواں رکھتا ہوں لیکن شہر خوبی میں خریداری نہیں مطلق کہاں جاکر بکائوں میں مجھے سر در گریباں رہنے دو میں بے توقع ہوں کسو پتھر سے پٹکوں ہوں ابھی سر جو اٹھائوں میں بلا حسرت ہے یارب کام دل کیونکر کروں حاصل مگر لب ہاے شیریں پر کسو کے زہر کھائوں میں نہ روئوں حال پر کیونکر بلا ناآشنا ہے وہ کہیں آنکھ اس کی ملتی ہے جو آنکھیں ٹک ملائوں میں نہ اے رشک بہار آنکھیں اٹھاوے پشت پا سے تو ہتھیلی پر اگر سرسوں ترے آگے جمائوں میں کہوں کیا صحبت اس سے ہر گھڑی بگڑی ہی جاتی ہے جو ٹک راہ سخن نکلے تو سو باتیں بنائوں میں نگاہ حسرت بت دیر سے جانے کی مانع ہے مزاج اپنا بہت چاہا کہ سوے کعبہ لائوں میں اسیر زلف کو اس بت کے کیا قیدمسلمانی تمنا ہے گلا زنار سے اپنا بندھائوں میں کہوں ہوں میر سے دل دے کہیں تا جی لگے تیرا جو ہو نقصان جاں اس کا تو کیونکر پھر منائوں میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR