میر تقی میر میر تقی میر

بیماری دلی سے زار و نزار ہیں ہم

بیماری دلی سے زار و نزار ہیں ہم اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم مارا تڑپتے چھوڑا فتراک سے نہ باندھا بے چشم و رو کسو کے شاید شکار ہیں ہم ہر دم جبیں خراشی ہر آن سینہ کاوی حیران عشق تو ہیں پر گرم کار ہیں ہم حور و قصور و غلماں نہر و نعیم وجنت یہ کلہم جہنم مشتاق یار ہیں ہم بے حد و حصر گردش اپنی ہے عاشقی میں رسواے شہر و دیہ، و دشت و دیار ہیں ہم اب سیل سیل آنسو آتے ہیں چشم تر سے دیوار و در سے کہہ دو بے اختیار ہیں ہم روتے ہیں یوں کہ جیسے شدت سے ابر برسے کیا جانیے کہ کیسے دل کے بخار ہیں ہم اب تو گلے بندھا ہے زنجیر و طوق ہونا عشق و جنوں کے اپنے ناموس دار ہیں ہم لیتا ہے میر عبرت جو کوئی دیکھتا ہے کیا یار کی گلی میں بے اعتبار ہیں ہم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR