میر تقی میر
سرزیر پر ہیں دیر سے اے ہم صفیر ہم
سرزیر پر ہیں دیر سے اے ہم صفیر ہم
واقف نہیں ہواے چمن سے اسیر ہم
کیا ظلم تھے لباس میں اس تنگ پوش کے
دل تنگی سے نکل گئے ہو کر فقیر ہم
دیکھ اس کو راہ جاتے تو بے حال ہو گئے
اب دیکھیے بحال کب آتے ہیں میر ہم