میر تقی میر میر تقی میر

نہ خوشہ یاں نہ دانہ یاں جلانا گھاس کیا حاصل

نہ خوشہ یاں نہ دانہ یاں جلانا گھاس کیا حاصل ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل سکندر ہو کے مالک سات اقلیموں کا آخر کو گیا دست تہی لے یاں سے یہ کچھ کر گیا حاصل بلا قحط مروت ہے کہ ہے محصول غلے پر کہیں سے چار دانے لائو لیویں جابجا حاصل نہ کھینچیں کیونکے نقصاں ہم تو قیدی ہیں تعین کے خودی سے کوئی نکلے تو اسے ہووے خدا حاصل عبارت خوب لکھی شاعری انشاطرازی کی ولے مطلب ہے گم دیکھیں تو کب ہو مدعا حاصل بہت مصروف کشت و کار تھے مزرع میں دنیا کے اٹھا حسرت سے ہاتھ آخر ہمیں یہ کچھ ہوا حاصل پھرا مت میر سر اپنا گراں گوشوں کی مجلس میں سنے کوئی تو کچھ کہیے بھی اس کہنے کا کیا حاصل

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR