میر تقی میر میر تقی میر

اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل

اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل بلبل کو ناز کیوں نہ خیابان گل پہ ہو کیا جانے جن نے چھاتی پہ بھر کر نہ کھائے گل کب تک حنائی پائوں بن اس کے یہ بے کلی لگ جائے ٹک چمن میں کہیں آنکھ پاے گل ناچار ہو چمن میں نہ رہیے کہوں ہوں جب بلبل کہے ہے اور کوئی دن براے گل چلیے بغل میں لے کے گلابی کسو طرف دامان دل کو کھینچے ہے ساقی ہواے گل پگڑی میں پھول رکھتے ہیں رعنا جوان شہر داغ جنوں ہی سر پہ رہا یاں بجاے گل بلبل کو کیا سنے کوئی اڑ جاتے ہیں حواس جب دردمند کہتی ہے دم بھر کے ہائے گل سویا نہ وہ بدن کی نزاکت سے ساری رات بستر پہ اس کے خواب کے کن نے بچھائے گل مصروف یار چاہیے مرغ چمن سا ہو دل نذر و دیدہ پیش کش و جاں فداے گل ہم طرح آشیاں کی نہ گلشن میں ڈالتے معلوم ہوتی آگے جو ہم کو وفاے گل چسپاں لباس ہوتے ہیں لیکن نہ اس قدر ہے چاک رشک جامہ سے اس کے قباے گل کیا سمجھے لطف چہروں کے رنگ و بہار کا بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سواے گل تھا وصف ان لبوں کا زبان قلم پہ میر یا منھ میں عندلیب کے تھے برگ ہاے گل

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR