میر تقی میر
قتل گہ میں دست بوس اس کا کریں فی الفور لوگ
قتل گہ میں دست بوس اس کا کریں فی الفور لوگ
ہم کھڑے تلواریں کھاویں نقش ماریں اور لوگ
کج روی ہم عاشقوں سے اس کی بس اب جا چکی
ایک تو ناساز پھر اس سے ملے بے طور لوگ
زخم تیغ یار غائر ہو کے پہنچا دل تلک
حیف میرے حال پر کرتے نہیں ٹک غور لوگ
جاکے دنیا سے تجھے یاد آئوں گا میں بھی بہت
بعد میرے کب اٹھاویں گے ترے یہ جور لوگ
رسم و عادت ہے کہ ہر یک وقت کا ہوتا ہے ذکر
میر بارے یاد کر روویں گے کیا یہ دور لوگ