میر تقی میر
گر بادیے میں تجھ کو صبا لے کے جائے شوق
گر بادیے میں تجھ کو صبا لے کے جائے شوق
مجنوں کو میری اور سے کہیو دعاے شوق
وصل و جدائی سے ہے مبرا وہ کام جاں
معلوم کچھ ہوا نہ ہمیں یاں سواے شوق
ہر چار اور اڑتی پھرے ہے ہماری خاک
سر سے گئی نہ جی بھی گئے پر ہواے شوق
دیر و حرم میں ہم کو پھراتا ہے دیر تک
پھر بھی ہمارے ساتھ وہی ہے اداے شوق
افسوس ایسے کوچے سے تم آشنا نہیں
کیا دردناک نے بھی کوئی ہے نواے شوق
درد اور آہ و نالہ کرے ہے دم سحر
یک مشت پر ہے مرغ گلستاں پہ ہائے شوق
کیا پوچھتے ہو شوق کہاں تک ہے ہم کو میر
مرنا ہی اہل درد کا ہے انتہاے شوق