میر تقی میر
فکر میں مرگ کے ہوں سر درپیش
فکر میں مرگ کے ہوں سر درپیش
ہے عجب طور کا سفر درپیش
کس کی آنکھیں پھرے ہیں آنکھوں میں
دم بہ دم ہے مری نظر درپیش
مستی بھی اہل ہوش کی ہے جنھیں
آوے ہے عالم دگر درپیش
کیا کروں نقل راہ ہستی میں
مرحلے آئے کس قدر درپیش
کیا پتنگے کو شمع روئے میر
اس کی شب کو بھی ہے سحر درپیش