میر تقی میر
پیس مارا دل غموں نے کوٹ کر
پیس مارا دل غموں نے کوٹ کر
کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر
ابر سے آشوب ایسا کب اٹھا
خوب روئے دیدئہ تر پھوٹ کر
کیوں گریباں کو پھروں پھاڑے نہ میر
دامن اس کا تو گیا ہے چھوٹ کر