میر تقی میر میر تقی میر

ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد

ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR