میر تقی میر میر تقی میر

زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند

زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند گرفت دل سے ناچاری ہے یعنی رہا ہوں بیٹھ میں بھی کر کے گھر بند پھنسا دل زلف و کاکل میں نہ پوچھو پڑا ہے ناگہ آکر بند پر بند سب اس کی چشم پرنیرنگ کے محو مگر کی ان نے عالم کی نظر بند چمن میں کیونکے ہم پربستہ جاویں بلند ازبس کہ ہے دیوار و در بند بہت پیکان تیر یار ٹوٹے تمام آہن ہے اب میرا جگر بند ہوئیں رونے کی مانع میری پلکیں بندھا خاشاک سے سیلاب پر بند کہا کیا جائے ان ہونٹوں کے آگے ہماری لب گزی ہے یہ شکربند کھلے بندوں نہ آیا یاں وہ اوباش پھرا مونڈھے پہ ڈالے بیشتر بند یہی اوقات ہے گی دید کی یاں رکھ اپنی چشم کو شام و سحر بند نچا رہتا تھا چہرہ جس سے سو اب گریباں میں ہے وہ دست ہنر بند فن اشعار میں ہوں پہلواں میر مجھے ہے یاد اس کشتی کا ہر بند

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR