میر تقی میر میر تقی میر

یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح

یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR