میر تقی میر
خدا جانیے ہووے گی کیا نہایت
خدا جانیے ہووے گی کیا نہایت
اجل تو ہے دل کے مرض کی بدایت
سخن غم سے آغشتہ خوں ہے ولیکن
نہیں لب مرے آشناے شکایت
نہیں یہ گنہگار ملنے کے قابل
کرم کریے تو مہربانی عنایت
گیا آسماں پر جو نالہ تو کیا ہے
نہیں یار کے دل میں کرتا سرایت
ہمیں عشق میں میر چپ لگ گئی ہے
نہ شکر و شکایت نہ حرف و حکایت