میر تقی میر میر تقی میر

جب سے چلی چمن میں ترے رنگ پاں کی بات

جب سے چلی چمن میں ترے رنگ پاں کی بات سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات یاں شہر حسن میں تو کہیں ذکر بھی نہیں کیا جانیے کہ مہر و وفا ہے کہاں کی بات اختر شناس کو بھی خلل ہے دماغ کا پوچھو اگر زمیں سے کہیں آسماں کی بات ایسا خدا ہی جانے کہ ہو عرش یا نہ ہو دل بولنے کی جا نہیں کیا اس مکاں کی بات کیا لطف جو سنو اسے کہتے پھرا کرو یوں چاہیے کہ بھول وہیں ہو جہاں کی بات لے شام سے جہاں میں ہے تاصبح ایک شور اپنی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتی یاں کی بات اوباش کس کو پوچھتے ہیں التفات سے سیدھی کبھو سنی نہیں اس بدزباں کی بات ہر حرف میں ہے ایک کجی ہر سخن میں پیچ پنہاں رہے ہے کب کسو کی ٹیڑھی بانکی بات کینے سے کچھ کہا ہی کیا زیرلب مجھے کیا پوچھتے ہو میر مرے مہرباں کی بات

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR