میر تقی میر میر تقی میر

سب آتش سو زندئہ دل سے ہے جگر آب

سب آتش سو زندئہ دل سے ہے جگر آب بے صرفہ کرے صرف نہ کیوں دیدئہ تر آب پھرتی ہے اڑی خاک بھی مشتاق کسو کی سر مار کے کرتا ہے پہاڑوں میں بسر آب کیا کریے اسے آگ سا بھڑکایا ہے جن نے نزدیک تر اب اس کو کرے غرق مگر آب دل میں تو لگی دوں سی بھریں چشمے سی آنکھیں کیا اپنے تئیں روئوں ادھر آگ ادھر آب کس طور سے بھر آنکھ کوئی یار کو دیکھے اس آتشیں رخسار سے ہوتی ہے نظر آب ہم ڈرتے شکررنجی سے کہتے نہیں یہ بھی خجلت سے ترے ہونٹوں کی ہیں شہد و شکر آب کس شکل سے اک رنگ پہ رہنا ہو جہاں کا رہتی ہیں کوئی صورتیں یہ نقش ہیں بر آب شعلے جو مرے دل سے اٹھیں ہیں سو نہ بیٹھیں برسوں تئیں چھڑکا کرو تم ان پہ اگر آب استادہ ہو دریا تو خطرناکی بہت ہے آ اپنے کھلے بالوں سے زنجیر نہ کر آب شب روئوں ہوں ایسا کہ جدھر یار کا گھر ہے جاتا ہوں گلے چھاتی تک اودھر کو اتر آب اس دشت سے ہو میر ترا کیونکے گذارا تا زانو ترے گل ہے تری تا بہ کمر آب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR