میر تقی میر
شیون میں شب کے ٹوٹی زنجیر میرصاحب
شیون میں شب کے ٹوٹی زنجیر میرصاحب
اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرصاحب
ہم سر بکھیرتے تو وہ تیغ کھنچ نہ سکتی
اپنا گناہ اپنی تقصیر میرصاحب
کھنچتی نہیں کماں اب ہم سے ہواے گل کی
بادسحر لگے ہے جوں تیر میرصاحب
کب ہیں جوانی کے سے اشعار شورآور
شاید کہ کچھ ہوئے ہیں اب پیر میرصاحب
تم کس خیال میں ہو تصویر سے جو چپ ہو
کرتے ہیں لوگ کیا کیا تقریر میرصاحب