میر تقی میر میر تقی میر

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا آکر کھڑا ہوا تھا بہ صدحسن جلوہ ناک اپنی نظر میں وہ در نایاب تھا سو تھا ساون ہرے نہ بھادوں میں ہم سوکھے اہل درد سبزہ ہماری پلکوں کا سیراب تھا سو تھا درویش کچھ گھٹا نہ بڑھا ملک شاہ سے خرقہ کلاہ پاس جو اسباب تھا سو تھا کیا بھاری بھاری قافلے یاں سے چلے گئے تجھ کو وہی خیال گراں خواب تھا سو تھا برسوں سے ہے تلاوت و سجادہ و نماز پر میل دل جو سوے مئے ناب تھا سو تھا ہم خشک لب جو روتے رہے جوئیں بہ چلیں پر میر دشت عشق کا بے آب تھا سو تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR