میر تقی میر میر تقی میر

کل رات رو کے صبح تلک میں رہا گرا

کل رات رو کے صبح تلک میں رہا گرا خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا اب شہر خوش عمارت دل کا ہے کیا خیال ناگاہ آ کے عشق نے مارا جلا گرا کیا طے ہو راہ عشق کی عاشق غریب ہے مشکل گذر طریق ہے یاں رہگرا گرا لازم پڑی ہے کسل دلی کو فتادگی بیمار عشق رہتا ہے اکثر پڑا گرا ٹھہرے نہ اس کے عشق کا سرگشتہ و ضعیف ٹھوکر کہیں لگی کہ رہا سرپھرا گرا دے مارنے کو تکیہ سے سر ٹک اٹھا تو کیا بستر سے کب اٹھے ہے غم عشق کا گرا پھرتا تھا میر غم زدہ یک عمر سے خراب اب شکر ہے کہ بارے کسی در پہ جا گرا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR