میر تقی میر
بوسہ اس بت کا لے کے منھ موڑا
بوسہ اس بت کا لے کے منھ موڑا
بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا
ہوکے دیوانے ہم ہوئے زنجیر
دیکھ کر اس کے پائوں کا توڑا
دل نے کیا کیا نہ درد رات دیے
جیسے پکتا رہے کوئی پھوڑا
گرم رفتن ہے کیا سمند عمر
نہ لگے جس کو بائو کا گھوڑا
کیا کرے بخت مدعی تھے بلند
کوہکن نے تو سر بہت پھوڑا
دل ہی مرغ چمن کا ٹوٹ گیا
پھول گل چیں نے ہائے کیوں توڑا