میر تقی میر میر تقی میر

وہ کم نما و دل ہے شائق کمال اس کا

وہ کم نما و دل ہے شائق کمال اس کا جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا ہم کیا کریں علاقہ جس کو بہت ہے اس سے رکھ دیتے ہیں گلے پر خنجر نکال اس کا بس ہو تو وام کر بھی اس پر نثار کریے یک نقد دل رکھے ہیں سو تو ہے مال اس کا یہ جانتا تو اس سے ہم خواب میں نہ ہوتا پکا خیال جی کا ایسا خیال اس کا ان زلفوں سے نہ لگ کر چل اے نسیم ظالم تاریک ہے جہاں پھر بکا جو بال اس کا جس داغ سے کہ عالم ہے مبتلا بلا میں سو داغ جان عاشق منھ پر ہے خال اس کا مستانہ ساتھ میرے روتی پھرے ہے بلبل گل سے جو دل لگا ہے ابتر ہے حال اس کا میری طرح جھکے ہیں بے خود ہو سرو و گل بھی دیکھا کہیں چمن میں شاید جمال اس کا کیا تم کو پیار سے وہ اے میر منھ لگاوے پہلے ہی چومے تم تو کاٹو ہو گال اس کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR