میر تقی میر
وفا تھی مہر تھی اخلاص تھا تلطف تھا
وفا تھی مہر تھی اخلاص تھا تلطف تھا
کبھو مزاج میں اس کے ہمیں تصرف تھا
جو خوب دیکھو تو ساری وہی حقیقت ہے
چھپانا چہرے کا عشاق سے تکلف تھا
اسیر عشق نہیں بازخواہ خوں رکھتے
ہمارے قتل میں اس کو عبث توقف تھا
نہ پوچھو خوب ہے بدعہدیوں کی مشق اس کو
ہزاروں عہد کیے پر وہی تخلف تھا
جہاں میں میر سے کاہے کو ہوتے ہیں پیدا
سنا یہ واقعہ جن نے اسے تاسف تھا